الرجیز

Allergies (Urdu)

الرجیزکیا ہوتی ہیں؟

مدافعاتی نظام ہمیں نقصان دہ عناصر مثلاً وائرس اور بیکٹیریا سے بچاتا ھے۔ الرجی کسی عنصر کے خلاف مضبوط مدافعاتی رد عمل ہوتا ھے، جوکہ بہت سے لوگوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا۔ اس عنصر کو'الرجی' کہتے ہیں۔

ایسے بچے جن کو الرجی ہوتی ھے، ان کا مدافعاتی نظام حملہ کرنے والے الرجن کے خلاف زیادہ رد عمل ظاہرکرتا ھے اور علاج بھی کرتا ھے۔ جس کے نتیجے میں ایسی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں تھوڑی تکلیف بھی ہوتی اور زیادہ بھی ہوتی ھے۔

بچپن کی الرجی کے بے قاََ ئدگیوں میں کھانے کی الرجی زیادہ عام ھے۔ بہت سے لوگوں میں کھانے کی چیزوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ھے۔ کھانے کو برداشت نہ کرنا ایک ناخواشگوار علامت ہوتی ھے جو اسی کھانے کی شے سےشروع ہوتی ھے۔ اس میں مدافعاتی نظام شامل نہیں ہوتا۔ بہت سے الرجی والے بچوں میں دمہ کی بیماری ہو جاتی ھے۔

زیادہ معلومات کے لیے براے مہربانی 'دمہ' لنک پڑھیے۔

الرجی کی اقسام:

عام ائیربورن یا ہوا میں پائی گئی الرجی:

Get Adobe Flash player
-UNIQUE1-Common_airborne_allergens_EQUIP_ILL_UR-UNIQUE2-
مٹی کے ذرات: یہ چھوٹے کیڑے آپ کے گھر کے گرم، نمی والی اور ریت والی جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔ یہ مردہ کھال کے خلیے کھاتے ہیں۔ ان کا فالتو مادہ الرجی اور دمہ کی بڑی وجہ بنتا ھے۔

  • پھولوں اور پودوں کے پولن
  • پھپھوندی
  • پالتو جانوروں کے ڈینڈر، یعنی پالتوجانوروں کے مردہ کھال کے خلیے
  • کاکروچ

عام کھانے کے الرجن:

عام کھانے الرجن شامل ہیں:

  • مونگ پھلی
  • درختوں کے میواجات مثلا ہیزل نٹ، اخروٹ، بادام اورکاجو
  • انڈے
  • گاَئے کا دودھ کھانے کا الرجن میں سب سے اہم ھے۔

Get Adobe Flash player
-UNIQUE1-Common_food_allergens_EQUIP_ILL_UR-UNIQUE2-
مچھلی، کرسٹیشن، مولسکس عام کھانے کے الرجن ہیِں۔

یہاں تک کہ ان خوراکوں کی بہت تھوڑی مقدار ہی الرجک بچوں میں اینافائیلیکسز (اینا-فائیل-ایکس-سز۔ الرجن رد عمل کی سب سے زیادہ خطرناک قسم ھے۔ نیچے دیکھیں۔ الرجن عام دعوتوں کے کھانوں میں بھی چھپے ہو سکتے ہیں۔ اگرآپ کا بچہ کھانے کی کسی بھی ڈش سے الرجک ھے تو آپ کھانا بنانے والے یا میزبان سے اس ڈش کے متعلق پوچھیں-

دوسرے عام الرجنز:

  • کیڑوں کے ڈنگ
  • دوائیاں
  • کیمیائی ادویات

الرجی کی علامات:

الرجی کی علامات ھر بچے میں اس کی شدت کے اعتبار سے مختلف ھوتی ھیں ۔ جہاں آب رھتے ھیں ۔ اس کا بھی الرجی کی شدت اور قسم پر فرق پڑسکتا ھے ۔

الرجی کی علامات مختلف ھوتی ھیں جوکہ مندرجہ ذیل ھیں ۔

  • سانس لینے میں دشواری
  • جلن ، پھٹنا یا آنکھوں میں خارش
  • کنجکٹیلوائٹیس ( لال سوجھی ھوئ آنکھیں
  • کھانسی
  • چھتے ( ابھرے ھوئے لال خارش ذدہ پھوڑے
  • ناک منہ گلے جلد اور دوسرے حصوں میں خارش
  • ناک کا بہنا
  • جلد کا لال ھوجانا
  • خرخراہٹ
  • منہ اور گلے کے اردگرد سوجھ جانا
  • شاک

ائربورن الرجی:

ائربورن الرجی زیادہ تر چھینکیں آنا، ناک اور گلے میں خارش، ناک کا بند ھونا، آنکھوں کا لال اور خارش ھونا اورکھانسی کا سبب بنتے ھیں ۔ کچھ بچوں میں خرخراہٹ اور سانس لینے میں دشواری ھوتی ھے۔

کھانے کے الرجن اور کیڑے کا کاٹنا:

کسی کھانے سے الرجی یا کیڑے کے کاٹنے کے خلاف بچے کا ردعمل اس بات پر منحصر ھے کہ وہ بچہ اس کھانے یا کیڑے سے متعلق کس حد تک حساسیت رکھتا ھے ۔ علامات میں شامل ھیں

  • کھانا کھانے کی صورت میں منہ اور گلے میں خارش ھونا
  • چھتے کی طرح ابھار ھونا
  • ایکزیمہ کی طرح کا ریش ھونا
  • ناک میں خارش اور بہنا
  • سانس لینے میں دشواری
  • منہ اور گلے کے اردگرد سوجھ جانا
  • شاک (صدمہ) میں چلےجانا

وجوہات:

الرجن کا آپ کی جلد سے تعلق یا سانس کے ذریعے یا جسم کے اندر داخل ہو سکتا ھے، جب

آپکےجسم کو الرجن کا پتا چلتا ھے تو وہ مدافعاتی نظام کو اشارہ کرتا ھے جس کے نتیجے میں اینٹی بوڈیز پیدا ہوتی ہیں، جنھیں امینوگلوبیولن ای 'آئی-جی-ای' کہتے ہیں۔ یہ اینٹی بوڈیزجسم میں کچھ خلیے پیدا کرتی ہیں جن سے ہسٹامینیز نامی کیمیکلز نکلتے ہیں۔ یہ ہسٹامینیزان حملہ کرنے والے الرجن کے خلاف دفاع کرنے کےلیے جسم کے خون میں تیرتے ہیں۔

آپ کے بچے کی الرجی کا رد عمل اس بات پر منحصر ھے کہ اس کے جسم کا کونسا حصہ الرجن سے متاثرہوا ھے۔ زیادہ تر الرجی میں بچوں کی آنکھیں،ناک،گلہ،پھپھڑے یا جلد متاثر ہوتی ھے۔

اینافائیلیکسز:

کچھ الرجیزبہت شدید اور جان کے لیے خطرہ ہوتی ہیں جن میں کھانے کی الرجی شامل ھے۔ اگر الرجن سے حساسیت بہت شدید ہو تو اس الرجن سے تعلق ہونے کے چند سیکنڈ میں ہی آپ کا بچہ اینافائیلیکسزمیں جا سکتا ھے۔

اینافائیلیکسزکسی بھی الرجن کے نتیجے میں جسم کا سب سے تیز اورمضبوط دفاعی عمل ھے اور یہ رد عمل اتنا مضبوط ہوتا ھے کہ یہ خطرناک بھی ہو سکتا ھے۔ اور اس کے نتیجے میں جو ایتٹی بوڈیز نکلتی ہیں، ان سے سانس میں دشواری، سوجن، یا بلڈپریشر کا کم ہونا (شاک) شامل ھے۔

آپ کے بچے کی زندگی بچانے اور اس عمل کو روکنے کے لیے ایک تیز ترین علاج ایک دوائی سے کیا جا سکتا ھے جسے ایپی نیفرین (ایپ-ان-ایف-ان ) کہتے ہیں۔ عموماً اس دوائی کو ایپی پین کہتے ہیں۔ اینافائیلیکسز ایک ہنگامی عمل ھے آپ کے بچے کو فوری طور پر ہسپتال جانے کی ضروت ہوتی ھے۔

آپکے بچے کا ڈاکٹر آلرجیز کے لئے کیا کر سکتا ھے

آپ کے بچے کا ڈاکٹر بچے کا جسمانی معائنہ کرے گا۔ صحت عامہ کا آدمی آپ سے آپ کے بچے کی الرجی کی ہسٹری کے متعلق پوچھے گا اور الرجی کی علامات کے متعلق معلومات لے گا۔ آپ کے بچے کے ٹیسٹ کرائے جا سکتے ہیں۔ جن میں جلد کا ٹیسٹ، خون کا ٹیسٹ، سینے کا ایکسرے، پھپھڑے کی کارکردگی کا ٹیسٹ، ورزش برداشت کرنے کا ٹیسٹ شامل ہیں اور ان ٹیسٹ کی معلومات کے نتیجے میں ڈاکٹر تشخیص کرےگا۔ پھر ڈاکٹر ان ٹیسٹ کی رپوٹوں کے متعلق آپ سے اور آپ کے بچے سے بات چیت کرے گا۔

اپائنمنٹ کے لیے تیار کرنا:

الرجی ٹیسٹ کرانے سے تھوڑا عرصہ پہلے آپ کے بچے کو دوائیاں بند کرنا پڑیں گی۔ ان دوائیوں میں اینٹی ہسٹامینزاور چکر روکنے کے لیے دوسری گولیاں شامل ہیں۔ اس وزٹ سے پہلے ڈاکٹر سے دوائیاں بند کرنے سے متعلق معلومات ضرور لے لیں۔

گھر میں الرجیز کی صورت میں اپنے بچے کا خیال رکھنا:

اپنے بچے کی الرجی کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیوں سے علاج کریں۔اگر آپ کے بچے کو دانے نکل رہے ہیں توکیلامین لوشن یا کولڈ کومپریس سے درد اور خارش میں آرام آسکتا ھے۔ اینٹی ہسٹامینز (جیسے کہ بنیاڈرل یا کلورنرائیپولون ) سے بھی درد اور خارش میں آرام مل سکتا ھے۔ یہ دوائیاں آپ کے بچے کو سلانے کا بھی سبب بن سکتی ہیں۔

اگر آپ کے بچے کو شدید الرجی ھے تو آپ کا ڈاکٹر آپ کو ایپی نیفرین سیلف انجکشن پین (اپیی پین ) تجویز کرسکتا ھے۔ آپ کا ڈاکٹر آپ کو بتائے گا کہ اس کو کب اورکس طرح استعمال کرنا ھے۔ آپ کو یا آپ کے بچے کو ہر وقت اسے اپنے ساتھ رکھنا پڑسکتا ھے۔

جہاں تک ممکن ہو اپنے بچے کا الرجن سے تعلق کو کم کریں۔ آپ کا بچہ جس چیز سے الرجک ھے، اس کے متعلق جائیں اور اپنےبچے کےڈاکٹر سے بھی بات چیت کریں۔

ائیربورن الرجیز:

اپنے بچے کو ائیربورن الرجن سے بچانے کے متعلق اہم نکات:

  • پالتو جانوروں / پرندوں سے گھر کو صاف کرلیں اور اگر پالتو جانور ہیں تو انھیں بچے کے کمرے سے باہر نکال دیں۔ اور انھیں باقاعدگی سے نہلائیِں۔
  • اپنے گھر سے خصوصاً بچے کے کمرے سے قالین اور رگز ہٹالیں۔ سخت فرش پر اتنی مٹی نہیں جمتی، جتنی کہ قالینوں پر جمتی ھے۔
  • گھر مِں نمی کم سے کم ہو۔
  • سارے بسترگرم پانی سے دھوئیں اس سے مٹی کے ذرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
  • موسموں کے شروع اور آخر میں اپنی کھڑکیوں کو بند رکھیں۔ تاکہ باہر کے پولنز کے تعلق کو قابو میں رکھا جائے۔ایسے ائیرکنڈیشنز سسٹم استعمال کریں جن میں چھوٹے ذرات کے لیے فلڑ لگے ہوں۔
  • گھر کی ایسی چیزوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔ جن میں مٹی اکٹھی ھوتی ھو جن میں بڑے بڑے لٹکنے والے یا پرانے گندے فرنیچر شامل ھیں۔
  • گھر کو صاف ستھرا رکھیں
  • اگر آپکا بچہ مٹی کے ذرات سے الرجک ھے تو تکئے اور گدوں کو بند کرکے رکھیں
  • اپنے غسل خانوں اور دوسری پھپھوندی لگنے والی جگہوں کو صاف اور خشک رکھیں ۔

کھانے کی شے سے الرجیز:

اگر آپکےبچے کو کھانے کی شے سے الرجی ھے تو اپنے بچے کو اس چیز سے پرہیز کرنے کی ہدایت دیں آپکو اور آپکے بچے کو لیبل پڑھنا چاھئے اور پیش کئے گئے کھانے کے متعلق پوچھنا چاھئے یہ بہت ضروری ھے کہ آپ اپنے بچے کے نگران کو بچے کی الرجی کے متلعق معلومات دیں اور بچے کی خوراک پر پابندی لگائیں۔

بچاؤ:

آپ کا بچہ جس کھانے سے الرجک ھے اس سے اسکو پرہیز کرنا چاہیے۔ کچھ بچے اپنی الرجیز کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ کچھ بچے ساری زندگی اس اینٹی جن سے پرہیز کرتے ہیں۔ فوڈ اینٹی جن سے پرہیز کرنا ایک مشکل عمل ہو سکتا ھے۔ کچھ بچے انجانے میں وہ کھانا کھا لیتے ہیں جس سے وہ الرجک ہوتے ہیں۔ اس کے لیے اس الرجی کے متعلق معلومات ہوں۔ انھیں اس کھانے کے متعلق محتاط رہنا چاہیے جو کسی رد عمل کا سبب بنے۔

جب یہ پڑھنے کے قابل ہو جائیں تو بچوں کو کھانے کے پیکنگ پر لیبل پڑھنے چاہیے۔ انھیں اتنی معلومات ہونی چاہیے کہ کسی بھی چیز کے اجزا کے فوڈ اینٹی جن کی اہمیت ھے۔

شیرخوار بچوں کے لیے:

اگر والدین یا رشتہ داروں میں ایگزیمہ یا الرجیز کے خاندانی ہسٹری موجود ھے تو بچے کے ڈاکٹر سے اس کے خوراک کے متعلق بات چیت کریں۔

طبی امداد کو کب طلب کریں:

اگران علامات میںسے کوئی بھی آپ کے بچے میں ظاہر ہو تو اپنے بچے کو قریبی ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ لے جائیں:

  • سانس لینے میں دشواری
  • سوجن خصوصاً منہ، گلہ، ہونٹ اور زبان پر
  • بلڈپریشرکا تیزی سے گرنا
  • غنودگی
  • بے ہوش یو جانا
  • جلد پر پھنسیاں پڑجانا
  • گلے کا بند ہو جانا
  • آوازکا بیٹھ جانا
  • سر کا بھاری پن
  • ایپی نیفرین لینا ، جبکہ ایپی نیفرین لینے کے کئی گھنٹوں بعد علامات کا دوبارہ ظاہر ہونا

اہم نکات

  • شدید الرجی کے صورت میں آپ کے بچے کا ٹیسٹ لیے جائیں گے۔
  • اپنے بچے کو الرجن سے بچانے کے لیے اپنے گھر کو پالتو جانوروں سے پاک کریں اور قالین ہٹا دیں۔
  • اگر آپ کے بچے کو شدید الرجی ھے تو اس کے اساتذہ اور نگران کو اس کے متعلق آگاہی دیں۔
  • ہنگامی حالت کے صورت میں ایپی پین آپ کے یا آپ کے بچے کے پاس ہونا چاہیے۔
  • کم شدت والی الرجی کی علامات کی صورت میں دوائیاں آرام دے سکتی ہیں مگر اس سے آپ کا بچہ سویا رہے گا۔

Mark Feldman, MD, FRCPC

3/5/2010

American Academy of Family Physicians. American Academy of Family Physicians. AAFP Conditions A to Z. Food Allergies: Just the Facts. http://online.statref.com/document.aspx?fxid=99&docid=248. Accessed Dec 2009.

Bochner BS, Lichtenstein LM: Anaphylaxis. N Engl J Med 1991; 324: 1785-1790

Bock SA, Atkins FM: The natural history of peanut allergy. J Allergy Clin Immunol 1989; 83: 900-904

Jones RT, Squillace DL, Yunginger JW: Anaphylaxis in a milk-allergic child after ingestion of milk-contaminated kosher-pareve-labeled "dairy-free dessert." Ann Allergy 1992; 68: 223-227

Rudolph, Colin (editor). Chapter 11 Allergy and Immunology, 11.8 Allergic Disorders. Rudolph’s Pediatrics. New York : McGraw-Hill, Medical Pub. Division, c2003.  

Sampson HA, Metcalfe DD: Food allergies. JAMA 1992; 268: 2840-2844

Simons, Estelle. Fatal anaphylactic reactions to food in children  CMAJ 1994;150(3):337-9 : http://www.cps.ca/English/statements/AL/al94-01.htm#Allergy%20Section. Accessed Dec 2009.  





Notes: