جانورں اور انسانوں کا کاٹنا: ابتدائی طبی امداد

Animal and Human Bites: First Aid (Urdu)

بچوں کو مختلف اقسام کے جانورکاٹتے ھیں یا بچے خود آپس میں ایک دوسرے کو کاٹ لیتے ھیں۔ آوارہ جانور بھی بچوں کو کاٹ لیتے ھیں۔ بچوں کو زیادہ تر گھر کے پالتو جانور ھی کاٹتے ھیں۔ یہ جانور اسی وقت کاٹتے ھیں جب بچے انیں اشتغال دلاتے ہیں، تنگ کرتے ھیں یا پھر اپنا منہ جانوروں کے بہت قریب لے جاتے ھیں۔ آپکا بچہ اپنی طرف سے تو کھیلنے کی کوشش کرتا ھے لیکن جانور کا ردعمل اس کے برعکس ھوتا ھے۔ سانپ ، مکڑے، اور بچھو بھی بچوں کو کاٹ لیتے ھیں۔

کاٹنے سے متعدی یا خطرناک بیماری ھو سکتی ھے۔ انسان اور بلی کا کاٹا ھوا کتے کے کاٹے سے بھی زیادہ خطرناک ھو سکتا ھے ۔ اگر آپ کے بچے کو تین چار دن کے اندر انفیکشن کے اثرات ظاھر نہ ھوں تو اس کا مطلب ھے کہ بچہ کسی قسم کی انفیکشن سے محفوظ ھے۔ ایسے جانور کا کاٹنا انتہائی خطرناک ھوتا ھے جو کہ باولے یا پاگل ھوں یا انہیں کوئی اور بیماری ھو۔علاوہ ازیں راکون، چمگاد ڑ، یا لومڑی کے کاٹے کا فوری علاج ھونا ضروری ھے

جانور کے کاٹے کی علامات و نشانات

جہاں جانور کاٹے گا ،اس جگہ پر خراش آئے گی یا زخم ھو جائے گا۔ جانور کی دی ھوئی خراش بھی اتنی ھی خطرناک ھو سکتی ھے جتنا زخم ھو سکتا ھے۔اگر بچے کا زخم گہرا ھے تو یہ ممکن ھے کہ وھاں انفیکشن ھو جائے۔ انفیکشن ھونے کی نشانی یہ ھے کہ زخم والی جگہ پر درد ھو گا، وہ سرخ ھو جائے گی یا سوج جائے گی۔ زخم میں سے مادہ خارج ھونا شروع ھو جائے گا۔ یہ بھی ممکن ھے کہ سرخ لکیریں جسم کے وسطی حصے کی طرف پھیلنا شروع ھو جائیں، اس کا مطلب یہ ھے کہ زخم آلودہ ھو گیا ھے اور انفیکشن پھیل چکی ھے۔

پیچیدگیاں

بہت کم ایسا ھوتا ھے کہ کسی جانور کے کاٹے سے بچے کی صحت کے لئے کوئی بڑا مسلہ پیدا ھولیکن پھر بھی باولا پن، تشنج یا بلی کے پنجے کی خراش سے بچے کے بڑھنے اور صحت کے مسائل پیدا ھو سکتے ھیں۔ جب آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو اس بات کی تسلی کر لیں کہ آپکے بچوں کا حفاظتی ٹیکوں کا ریکارڈ مکمل ھے ، اگر آپ جانور کو جانتے ھیں تو اسے پکڑ کر اپنی خفاظت میں رکھیں اگر اس جانور کے حفاظتی ٹیکوں کا آپ پورا حساب رکھتے ھیں تو اسے اپنے ڈاکٹر کو دکھانا نہ بھولیں۔ یہ بھی ممکن ھے کہ آپ پولیس یا پبلک ھیلتھ اتھارٹی کو اطلاع دیں تا کہ وہ اینیمل ویلفیئر اتھارٹی یا جانوروں کے ڈاکٹر سے اسکی تسخیش کروا سکیں۔

علاج

اگر آپکے بجے کو کوئی دوسرا جانور یا بچہ کاٹ لے تو زخم کو پانچ سے دس منٹ تک نلکے کے نیچے دھوئیں پھر دھلے ھوئی تولئے سے تھپک کر صاف کریں ۔ زخم پر اینٹی بائیوٹک کریم جیسا کہ پولی سپورین وغیرہ اپنی صاف انگلی سے لگا دیں۔

فوری طبی امداد کا حصول

ایسا کاٹا جس سے جلد کے اندر تک زخم ھوجائے، اسے فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانے کی ضرورت ھے۔ آپ کے بچے کا ڈاکٹر انفیکشن سے بچانے کے لئے اینٹی بائیوٹک دوا تجویز کرے گا۔ اگر زخم زیادہ گہرا ھے تو ٹانکا لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ھے۔ یہ بھی ممکن ھے کہ بچے کو جلد کے اندرتک تسخیش کی ضرورت ھو۔

آپ کو فوری طبی امداد کی ضرورت ھے اگر:

  • اگر آپ سمجھتے ھیں کہ بچے کو کسی ریبیز والے یا پاگل جانور نے کاثا ھے
  • اگر بچے کو کسی ایسے جانور نے کاٹا ھے جسے آپ نہیں جانتے
  • اگر بچے کے سر یا گردن پر زخم آیا ھے
  • اگر جلد پھٹ گئی ھے
  • اگر زخم بہت گہرا ھے
  • اگر زخم سرخ اور سوجا ھوا ھے
  • اگر آپ کا بچہ گردن کے گرد درد کی شکائت کرتا ھے

ممکنہ طبی امداد

چھوٹے کترنے والے جانوروں سے انفیکشن کا خطرہ کم ھوتا ھے۔ پالتو گربل یعنی جنگلی چوھا یا ھیمسٹر نیز جنگلی کترنے والے جانور مثلا" گلہری، چوھیا، امریکی گلہری وغیرہ کے کاٹے سے ریبی یا پاگل پن نہیں ھوتا۔ لیکن خطرہ ھے کہ ان کے پنجے یا دانتوں کے جراثیم سے کوئی دوسری انفیکشن ھو سکتی ھے۔ یہ ضروری ھے کہ زخم کو اچھی طرح صاف کر کے اس کی نگرانی کی جائے اور اگر اس میں سوزش بڑھے تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ھے۔

بعض اوقات ایک بچہ دوسرے بچے کو کاٹ لیتا ھے۔ اگر بچے کی جلد نہیں پھٹی تو پھر ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ صرف جلد کو فوری طور پر دھونا ھی کافی ھوتا ھے۔ اگر انفیکشن کا خطرہ ھو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

پرھیز

جانور کے کاٹے سے بچنے کے لیے درست قسم کی ٹریننگ اور نگرانی کی ضرورت ھے۔ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ جانوروں کے ساتھ کس طرح کا برتاو کرنا ھے۔ کسی کتے کو پیار کرنے سے پہلے آپ کے بچے کو کتے کے مالک سے اجازت لینا ضروری ھے۔ بچوں کو کسی راہ چلتے کتے کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر چھونا نہیں چاھئے۔ مالک کو چاھئے کہ بچے کے پیار کرتے وقت سر پر کھڑا رھے۔ پالتو جانوروں کے مالکوں کو اپنے جانوروں کو نہ کاٹنے کی ٹرینینگ دینا ضروری ھے۔

ابنے بچے کو بتائیے کہ جانور کو کھاتے وقت یا اپنے بچوں کو کھلاتے وقت تنگ نہ کریں ۔اپنے بچے کو بتایئے کہ جانور کے پاس بہت آہستہ سے جائے تا کہ وہ پریشان نہ ھو۔ اس بات کی تسلی کر لیں کہ آپ کے بچے کو کھیلنے یا تنگ کرنے کا فرق پتہ ھو اور یہ بھی کہ اپنا منہ کتے کے منہ سے دور رکھیں۔ کتوں کی کچھ اقسام جیسے کہ راٹویلیرز اور پٹ بّل بچوں کو جلدی کاٹ لیتے ھیں۔

کلیدی نقاط

  • زیادہ تر صورتوں میں بچوں کو کتے اور بلیاں ھی کاٹتے ھیں
  • جانور اکثر اسی وقت کاٹتا ھے جب بچہ جانور کو تنگ کرتا ھے یا پھر منہ قریب لیکر جاتا ھے
  • اگر ریبیز یا پاگل جانور بچے کو کاٹ لے تو بہت خطرناک ھوتا ھے
  • یہ بہت ضروری ھے کہ بچے کے زخم پر نظر رکھی جائے، اگر زخم سوج رھا ھے تو اسی وقت ڈاکٹر پر لے کر جائیں
12/1/2010




Notes: