دمہ کا متحرک ہونا

Asthma Triggers (Urdu)

متحرک چیزیں وہ ہیں جو کہ آپ کے بچے کے دمہ کی کیفیت کو بد تر کر دیتی ہیں ۔ آپ کے بچے میں دمہ کو متحرک کرنے کا ایک سلسلہ ہے جو کہ دوسرے بچوں سے مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ جاننا اہم ہے کہ آپ کے بچے میں دمہ کو متحرک کرنے والی چیزیں کونسی ہيں اور ان کو ختم کرنے یا کم کرنے کی کوشش کریں۔

دمہ کو متحرک کرنے میں یہ عوامل شامل ہيں:

  • انفیکشن جیسے کہ ٹھنڈ سے نزلہ اور زکام
  • سگریٹ نوشی اور دیگر سوزشی عوامل جیسے ہوا میں آلودگی، ٹھنڈی ہوا اور کیمیائی دھوئیں
  • الرجی پیدا کرنے والے عناصر جیسے کے پالتو جانور گرد میں موجود جراثیم، پولنز(زرگل) اور پھپھوندیاں
  • کچھ دوائیں

     

    دمہ کی چند عمومی کاروائیوں کا آغاز
    Get Adobe Flash player
    -UNIQUE1-Asthma_Triggers_EQUIP_ILL_UR-UNIQUE2-

انفیکشنز جیسے کہ ٹھنڈ سے نزلہ اور زکام

وائرل انفیکشن جیسے کہ ٹھنڈ سے نزلہ اور زکام دمہ کو متحرک کرنے کے عام عوامل ہیں۔ اپنے بچے کو اس سے بچاؤ میں مدد دینے کے لئے:

  • اپنے بچے کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں جنہیں نزلہ یا زکام ہو۔
  • اس بات کا یقین کریں کہ آپ کا بچہ اور آپ کے خاندان کے لوگ اپنے ہاتھ اکثر دھوتے ہیں۔
  • ہر سال موسم خزاں میں قبل از وقت اپنے ڈاکڑ سے اپنے بچے کو فلو شاٹ(ویکسین) دینے کو کہیں۔
  • اپنے بچے کے دمہ کو ہر وقت قابو میں رکھنے کا دھیان رکھیں۔ یہ بات آپ کے بچے کو نزلہ اور زکام کے دوران دمہ کی کم علامات ظاہر کرنے میں معاون ہوگی۔

سوزشی عوامل

سوزشی عناصر وہ ہیں جو آپ کے بچے کی سانس کی نالیوں میں سکڑاؤ پیدا کرسکتے ہیں اور دمہ کی علامات کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اگرچہ یہ مشکل امر ہے کہ ایسے سوزشی عناصر سے بچا جا سکے، لیکن کچھ راستے ہیں جو آپ کےبچے کو اس سے بچانے میں معاون ہو سکتے ہیں ۔

کچھ سوزشی عناصر کی مثالِیں یوں ہیں۔

  • سگریٹ کا دھواں
  • لکڑی اور تیل کا دھواں
  • ہوا میں آلودگی
  • ٹھنڈی ہوا
  • کیمیائی دھوئیں یا تیز بدبو

سگریٹ کا دھواں

بچوں میں دمہ استعمال شدہ سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متحرک ہو جاتا ہے۔ یہاں کچھ دھوئیں سے بچاؤ کی تدابیر دی جاتی ہیں:

  • اگر آپ سگریٹ پیتے ہیں تو ترک کرنے کی کوشش کریں۔
  • گھر میں سگریٹ نوشی نہ کریں۔ اگر کوئی سگریٹ نوشی کرتا ہے تو اسے کہیں کہ باہر جا کر سگریٹ نوشی کرے۔
  • یاد رکھیں کہ سگریٹ کا دھواں کپڑوں میں رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص جو سگریٹ کے دھوئیں کے قریب ہو اور آپ کے بچے کے قریب ہو جائے تو یہ بچے کے دمہ کو بد تر بنا سکتا ہے۔
  • دھوئیں والی جگہوں سے دور رہیں۔ جب آپ باہر ہوں تو اپنے بچے کی سگریٹ کے دھوئیں سے بچاؤ میں مدد کریں ۔
  • گاڑی میں کسی کو سگریٹ نہ پینے دیں۔

لکڑی اور تیل کا دھواں

لکڑی کے چولھوں کا دھواں یا میدان میں جلائی ہوئی آگ کے دھوئیں بھی سوزشی عناصر ہو سکتے ہیں۔ یہاں آپ کے بچے کے بچاؤ کی چند تدابیر دی جاتی ہیں:

  • چولھے دان ، لکڑی کے چولھے یا میدان میں جلائی ہوئی آگ کے دھوئیں سے اپنے بچے کو دور رکھیں۔
  • اپنے بچے کو تیل کے چولھوں کے دھوئیں سے دور رکھیں۔

ہوا کی آلودگی

گرمیوں کے مرطوب دنوں میں ہوا میں آلودگی اونچے درجے پر ہوتی ہے۔ یہاں آپ کے بچے کے لئے ہوا کی آلودگی سے بچاؤ کی چند تدابیر دی جاتی ہیں:

  • ٹی وی یا آن لائن جاکر ہوا کے معیار کا اشاریہ دیکھیں۔
  • جب باہر ہوا کا معیار خراب ہو، تو اپنے بچے کو گھر کے اندر جہاں ایئر کنڈیشن ہو اس میں رہنے دیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایئر کنڈیشنڈ گھر، شاپنگ مال یا دفتر کی عمارت ہو ۔
  • جب ہوا کا معیار اچھا نہ ہو توگھر اور کار کی کھڑکیاں بند رکھیں۔ اگر ممکن ہوتو ایئر کنڈیشن چلائیں۔

ٹھنڈی ہوا

اگردرجہ حرارت میں اچانک کوئی تبدیلی ہو تو یہ آپ کے بچے کے دمہ کو بد تر بنا سکتا ہے۔ یہاں آپ کے بچے کے لئے ٹھنڈی ہوا جو آپ کے بچے کے دمہ کو متحرک کرسکتی ہے ، سے بچاؤ کی چند تدابیر دی جاتی ہیں:

  • قبل اس کے کہ آپ کا بچہ باہر ٹھنڈی ہوا میں جاتا ہے یقین کریں کہ آپ کا بچہ مفلر پہنتا ہے جو ناک اور منہ کو ڈھانپتا ہے۔ یہ آپ کے بچے کے سانس کے ذریعے اندر لیجانے والی ہوا کو گرم اور مرطوب کر سکتا ہے۔
  • اپنے بچے کو سردی کے موسم میں اندرون خانہ ورزش کرنے دیں۔
  • آپ اپنے بچے کے استاد سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کے بچے کو وقفے کے دوران اندرون خانہ ہی رہنے دے۔

کیمیائی دھوئیں یا تیز بُو

چند تیز خوشبوئیں اور کیمیائی دھوئیں آپ کے بچے کی ہوا کی نالیوں کو سوزش آمیز بنا سکتے ہیں: ان میں چند مثالیں یہ ہیں:

  • صفائی کرنے والی اشیاء
  • روغن اور روغنی دھاریاں
  • عطریات
  • بلیچ
  • ہوا کو معطر کرنے والے فوارے
  • کیڑے مار دوائیں

ان سوزشی عناصر سے بچاؤ کی چند تدابیریں یوں ہیں:

  • اپنے بچے کو کیمیائی دھوئیں اور تیز خوشبوؤں سے دور رکھیں۔
  • کمرہ روغن کرنے کے بعد کھڑکی کھلی رکھیں اور ہوا کو باہر جانے دیں۔ جب خوشبو چلی جائے تو اپنےبچے کو کمرے میں جانے دیں۔

الرجی پیدا کرنے والے عناصر

الرجی پیدا کرنے کے عناصر وہ ہیں جن سے آپ کا بچہ الرجک ہے۔ دمہ والے ہر بچے کو الرجی نہیں ہوتی۔ لیکن اگر آپ کے بچے کو الرجی ہے، تو اُسے قابو میں رکھنا اہم ہے یا ان الرجی پیدا کرنے والے عناصر سے جو اُسے پریشان کرتے ہوں، دور رہیں۔

الرجی پیدا کرنے والے عناصر بچے کے دمہ کو جب وہ سانس اندر لیتے ہیں تو بد تر کر سکتے ہیں ۔ الرجی پیدا کرنے والے عناصر سانس کی نالیوں کو متورم اور سکیڑ دیتے ہیں۔ یہ اس بات کو مشکل بناتے ہیں کہ ہوا گذر سکے۔ یہ کھانسی، سانس لینے میں مشکل، کم سانس آنا اور دیگر دمہ کی علامات کا سبب ہو سکتے ہیں۔

الرجی پیدا کرنے والے عناصر کی چند مثالیں یہ ہیں:

  • پالتوجانوروں کے جراثیم
  • گرد میں موجود جراثیم
  • پولنز
  • پھپھوندیاں

پالتوجانوروں کے جراثیم

اگر آپ کا بچہ پالتوجانوروں سے الرجک ہے تو دمہ کے دورے سے بچنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ اپنے جانوروں کےلئے کوئی دوسرا گھر دیکھیں۔ یہ انتہائی اہم بات ہے کہ گھر سے جانور کو نکالنے کے بعد آپ اپنا گھر اچھی طرح صاف کریں کیوں کہ جانور کے نشانات رہائش کے حصہ میں بہت مدت تک رہ سکتے ہیں۔ آپ کوفرنیچر، قالینیں، بچوں کے روئی بھرے کھلونے اور ہیٹنگ اور کولنگ سسٹم کو صاف کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

گرد میں موجود جراثیم

گرد میں موجود جراثیم بہت باریک کیڑے ہیں جو انسانی جلد سے خوراک لیتے ہیں۔ ایسے بچے جنہیں مٹی سے الرجی ہے تو حقیقتاً گرد میں موجود جراثیم کے گرنے سے بھی الرجک ہوں گے۔ گرد میں موجود جراثیم زیادہ تر گرم اور مرطوب جگہوں میں انسانی جلد کے چھپروں میں رہتے ہیں، جیسے کہ گدے، تکیے، بستر، قالینوں، قالین کا ٹکڑا اور گھر کے فرنیچر و سازو سامان میں۔ اپنے بچے کی الرجی پر قابو پانے کے لئے آپ کو لازماً تمام پردے ہٹانے ہوں گے تاکہ گرد میں موجود جراثیم ختم کر سکیں۔

کچھ مددگار عوامل یہ ہیں:

  • اپنے تمام پردوں کے کپڑوں کو ہر ہفتے تیز گرم پانی میں دھوئیں۔
  • اپنے بچے کے گدے، باکس سپرنگ، اور تکیوں کو خاص الرجی پیدا کرنے والے عناصر سے پاک چادروں سے ڈھانپیں یا ایسی چادروں سے جو گدے میں گرد کو جانے سے مکمل طور پر روک دیں .
  • قالینیں، غالیچے، اور وزنی پردے بچے کے سونے کے کمرے سے ہٹا دیں۔ اگر ممکن ہو تو اسے پورے گھر سے ہٹانا عمدہ بات ہوگی۔
  • روئی بھرے جانور یا گڑیاں اپنے بچے کے سونے کے کمرے سے ہٹا دیں یا اُنہیں الماری میں رکھیں۔ گڈ مڈ اشیاء کو سونے کے کمرے سے ہٹا دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہاں کم مٹی ہوگی۔
  • ہر ہفتہ قالین اور گرد مٹی کو ویکوم کریں۔
  • گھر میں مرطوب فضا کی سطح50% رکھیں آپ مرطوب جگہوں میں ہوا سے رطوبت ختم کرنے والا آلہ استعمال کر سکتے ہیں۔ گرد میں موجود جراثیم خشک ماحول میں اچھی طرح زندہ نہیں رہ سکتے۔

پولنز

پولنز درختوں، گھاس، اور پھوس سے ہوتی ہے۔ وہ میلوں ہوا کے ساتھ سفر کر سکتی ہے اور موسم بہار اور گرم موسم کے مہینوں میں تکلیف دہ ہوتی ہے۔

اگر آپ کا بچہ پولنز سے الرجک ہے، تو کچھ چیزوں کے کر نے سے آپ اپنے بچے کو اس سے بچا سکتے ہیں:

  • اُن دنوں میں جب پولن اونچے درجے پر ہو تو گھر اور کار کی کھڑکیاں جس قدر ممکن ہو بند رکھیں۔ اگر ضروری ہو تو ایئر کنڈیشنر استعمال کریں اور اس کا فلٹر باقاعدہ تبدیل کرتے رہیں۔
  • پولن کے شمار کا جائزہ لیتے رہیں اور یہ تعین کریں کہ جب پولن کا شمار بڑھا ہوا ہوتو آپ کے بچے کو گھر رہنا چاہئے۔ آپ پولن کی رپورٹ ٹی وی پر یا آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔
  • اگر آپ کا بچہ پولن کے بڑھے ہوئے شمار کے دوران باہر جاتا ہے تو جب وہ گھر واپس آئے تو نہائے اور اپنے کپڑے بدلے۔
  • اپنے بچے کے دھلے ہوئے گیلے کپڑے اور چادریں باہر رسی پر ٹانگ کر سکھانے کی بجائے، سکھانے والی مشین میں ڈال کر سکھائیں۔

پھپھوندیاں

پھپھوندیاں سارے سال ایسی جگہوں پر نشوء نما پاتی ہیں جو سیلانی ہوتی ہیں جیسے کہ تہہ خانے اور غسل خانے۔ وہ گھر میں ہر جگہ گھوم سکتی ہیں۔

یہاں کچھ تدابیر ہیں جن سے آپ اپنے گھر کو پھپھوندیوں سے بچا سکتے ہیں۔

  • اپنے گھر میں پھپھوندی والی چھوٹی جگہوں کو صاف کرنے کے لئے صابن یا میل کاٹ استعمال کریں۔ بڑے مقاموں کے لئے آپ کو ایسی چیزوں کی ضرورت ہوگی جو پھپھوندی کو ختم کرنے کے لئے فنگی سائیڈ (a fungicide) مخصوص ہوتے ہیں۔
  • گھرکی مرطوب جگہوں پر رطوبت خشک کرنے والی مشین کا استعمال کریں جیسے کہ تہہ خانہ۔ اپنے گھر میں رطوبت کو 50% سے کم رکھیں۔
  • اپنے گھر کو خوب ہوادار رکھیں، پھپھوندیاں ہوادار جگہ میں اچھی طرح نہیں پنپتیں۔
  • نہانے کے بعد، غسل خانے کی کھڑکی کھولیں یا پنکھا چلائیں۔
  • چھت یا کسی بھی پانی کی آمد و رفت کی جگہ کوپائپ فٹرکے ذریعے فوراً بند کریں۔

کھانے

کھانے سے الرجیز عام طور پر دمہ کی علامات ظاہر کرنے کا سبب نہیں بنتیں، لیکن ایسے بچے جنہیں کھانے سے الرجی ہوتی ہے ان کو دمہ ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگرایسے بچے جنہیں کھانے سے الرجی ہوتی ہے ان کوشدید دمہ ہونے کا زیادہ امکان ہے تو یہ بات بہت اہم ہے کہ اگر آپ کے بچے کو کھانے سے الرجیز ہیں تو اس کے دمہ کو قابو میں رکھیں۔ بچوں میں سب سے زیادہ الرجیز کرنے والی عام اشیاء میں دودھ، انڈے، مونگ پھلی، گریاں، گیہوں، سویا، سیپ مچھلی، اور مچھلی شامل ہیں۔

اگر آپ کو شبہ ہو کہ آپ کا بچہ چند ایک کھانوں سے الرجک ہے تو ماہر الرجیات سے مشورہ کریں۔

دوائیں

چند ایک دوائیں، اے ایس اے، ایسیٹائل سیلی سائکلک ایسڈ یا اسپرین (acetylsalicylic acid or Aspirin) اور آئبوپروفن (ibuprofen)، کچھ بچوں میں جو دمہ کے مریض ہوں، دمہ کی علامات کا باعث بن سکتی ہیں۔

اگر آپ کا بچہ ان ادویات سے حساسیت محسوس کرتا ہے، اپنے دوا فروش کو بتائیں۔ اس بات کا یقین کریں کہ جو دوا اپنے بچے کو دیتے ہیں اس کے لیبل پر آئبوپروفن (ibuprofen)، اسپرین (Aspirin) ، اے ایس اے، یا ایسیٹائل سیلی سائکلک ایسڈ (acetylsalicylic acid) جیسا کوئی لفظ نہیں ہے۔

Sharon Dell, BEng, MD, FRCPC

Bonnie Fleming-Carroll, MN, ACNP, CAE

Jennifer Leaist, RN, BScN

Rishita Peterson, RN, BScN, MN

Gurjit Sangha, RN, MN

James Tjon, BScPhm, PharmD, RPh

1/29/2009




Notes: