یرقان

Jaundice (Urdu)

نومولود یرکان کے ساتھ
یرقان کیا ہے ؟

یرقان کا مطلب جلد اور جسم کے ریشوں اور مائعات کی رنگت کا زرد ہونا ہے۔ یہ رنگت زیادہ تر جلد یا آنکھوں کے سفید حصہ میں زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ اس کا سبب بیلیروبن (ہیموگلوبن کا مخروج ذدہ مادہ) کی جسم میں نشونما ہے۔ بیلیروبن  ایک رنگدار مادہ ہے جو سرخ خون کے خلیوں کے اندر موجود ہوتا ہے اور جیسے ہی یہ خلیے اپنی جگہ تبدیل کرتے ہیں یہ مادہ قدرتی طور پر آزاد ہو جاتا ہے۔

نو زائیدا بچوں میں یرکان عام ھوتا ھے تمام نوزائیدہ بچوں میں سرخ خون کے خلیے اُنکی ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔ بچے جب پیدا ہو جاتے ہیں، تو اُنہیں جسم میں آکسیجن ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے اتنے زیادہ سرخ خون کے خلیوں کی ضرورت نہیں رہتی جتنی اُنیں بچہ دانی میں ہوتی ہے۔ جب یہ زائد سرخ خون کے خلیے ٹوٹتے ہیں تو یہ بیلیروبن کو آزاد کر دیتے ہیں۔

زندگی کے پہلے چند دنوں میں نومولود کو یرکان ھونا ایک عام بات ھے۔ یھ نقصان دہ بھی نھیں ھوتا

نوزائیدہ کے خون میں بیلیبرون کی مقدار بہت زیادہ ھوتی ھے جسکی وجہ مندرجہ ذیل ہے :

  • انفیکشن، غیر متوازن کایا بدل، یا دوسری وجوھات سرخ جلیوں کو توڑنے کا کام آسانی سے کر دیتے ھیں
  • جگر یا چھوٹی بڑی آنتوں کے مسائل ۔ بیلیروبن کو نکالنے میں سستی کا باعث بنتے ہیں۔ اس دیری کی وجہ مختلف قسم کی ادویات بھی ھو سکتی ہیں۔
  • نوزئیدا بچے کے بیلیروبن آنتون کے ذریعے مقعد سے نکلنے کی بجائے واپس خون کے دھارے میں شامل ھو جاتے ھیں۔نوزائدہ بچے جو اپنی خوراک اچھی طرح نھیں لیتے ا ن کے بیلیروبن دوبارہ ضم ھو جاتے ہیں۔ نوزئیدہ بچوں میں یرکان ہونے کی عام وجوھات یہي ھیں ب سے عام وجہ ہے۔

اگر مجھے یہ بتایا جائے کہ میرے بچے کو ماں کا دودھ یا چھاتی کا دودھ پینے کے باعث یرقان ہے تومجھے کیا کرنا چاہیئے ؟

آپ نے کچھ لوگوں سے سُنا ہوگا کہ وہ یرقان کو ماں کی چھاتی سے حاصل ہونے والی خوراک یا دودھ سے منسوب کرتے ہیں۔ اگرچہ کچھ یرقان ماں کے دودھ سے منسوب کئے جا سکتے ہیں لیکن یہ نارمل ہے اور اس سے بچے کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

اپنے بچے کو جتنا زیادہ ممکن ہو اتنا ماں کا دودھ پلانا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ کنیڈین پیڈیاٹرک سوسائٹی اور دیگر پیڈیاٹرک ایسوسی ایشنزکم از کم 6 ماہ تک بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا مشورہ دیتی ہیں۔کچھ صورت احوال میں، بچوں اور ماؤں کو ماں کے دودھ کے حوالے سے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپکا ڈاکٹر، بچے کو دودھ پلانے کے حوالے سے کنسلٹنٹ، یا ایک تجربہ کار نرس دودھ پلانے کے حوالے سے آپ کے سوالات یا مسائل کے جوابات میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

یرقان کی نشانیاں اورعلامات

عام طور پر یرقان کے باعث بچے کی جلد اور آنکھوں کی رنگت زرد ہو جاتی ہے۔ اس سے بچہ غنودگی میں رہتا ہے اور ٹھیک طرح سے اپنا پیٹ نہیں بھر پاتا۔ پیدائش کے بعد بچے کا پاخانہ ممکن ہے کہ ایک لمبے عرصے کیلئے کالے یا سیاہ رنگ کا ہی رہے اُس نوزائیدہ بچے کی بہ نسبت جسے یرقان نہیں ہوتا ۔

یرقان میں مبتلا بچے کے لئے آپ کا ڈاکٹر کیا کر سکتا ہے

ڈاکٹر بچے کا جسمانی معائنہ کرتا ہےاور جسم میں بیلیروبن کی مقدار چیک کرنے کیلئے ایک سادہ سا ٹیسٹ کے ذریعے یرقان کی تشخیص کرتا ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر بچے کی عمر اور وزن کی اہمیئت کو مد نظر رکھتے ھوئے اور ٹیسٹ کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے علاج شروع کرتا ہے۔

جب آپ اور آپکا بچہ ہسپتال سے رُخصت ہوتے ہیں تو ڈاکٹر یا نرس آپ کو وضاحت سے بتائیں گے کہ بچے کی یرقان سے نپٹنے کے لئے کیسے مدد کی جا سکتی ہے۔

اگر ٹیسٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بچے میں بیلبرون کا درجہ عام درجے سے زیادہ ہے اور اسے مناسب علاج کی ضرورت ہے تو ڈاکٹر ایک فالواپ وزٹ کا اہتمام کرے گا تاکہ بچے کا دوبارہ معائنہ اور ٹیسٹ کیا جا سکے۔

اگر ڈاکٹر کو یہ شبہ گذرے کہ یرقان کی وجہ پیچیدہ ہے، تو وہ کچھ مزید ٹسٹ بھی کروانے کا فیصلہ کر سکتا ھے۔

یرقان کی پیچیدگیاں

کچھ بچوں میں یرقان کو شدت اختیار کرنے سے روکنے کے لئے علاج کی ضرورت درکار ہوتی ہے ۔

شدید یرقان میں مبتلا بہت کم تعداد میں بچوں میں انتہائی کیفیت رونما ہو سکتی ہے جسے کرنکٹیرس  یعنی دماغ میں اساسی ابھاروں کی بائل سٹیننگ کہتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے ۔ کرنکٹیرس کے باعث بچے کے دماغ اور سماعت کو نقصان ہو سکتا ہے۔

یرقان کا علاج

فوٹو تھراپی (روشنی سےطریقہ علاج)

فوٹو تھراپی کا مطلب ہے" روشنی سے علاج کرنا۔ " ڈاکٹر یا نرس آپ کے بچے کے کپڑے اُتار دیں گے، اس کی آنکھوں کو ڈھانپ کر محفوظ کر دیا جائے گا، اور اُسے ایک مخصوص روشنی کے سامنے لایا جائے گا۔

آپ کے بچے کی جلد اور خون روشنی کی یہ شعاعیں جذب کرتے ہیں۔ یہ شعاعیں بیلیروبن کو ایسی صورت میں تبدیل کر دیتی ہیں جو پانی میں حل ہو سکتی ہے، تاکہ بچے کا جسم باآسانی اس سے نجات پا سکے۔

اس کے علاوہ ایک اور مصنوعات بھی دستیاب ہے جسے"بلی بلینکٹ" کہتے ہیں جو کہ بچے کے یرقان کے علاج کیلئے متبادل یا اضافی طریقے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ کمبل ایک جیکٹ کے ساتھ لگا چپٹا ھوا پیڈ ھوتا ھے اور یہ ایک لمبے سرمئی پائپ کے ساتھ ایک مشین سے جڑا ھوتا ھے٫ یہ مشین پیڈ کو روشن کر دیتی ھے

یہ طریقہ علاج مکمل طور پر محفوظ ہوتا ہے۔

فوٹو تھراپی کے ذیلی اثرات

نوزائیدہ بچے کو پاخانہ معمول سے زیادہ اور بہت پتلا آ سکتا ہے بعض اوقات اس کی رنگت سبز ہوتی ہے۔ یہ ایک نارمل بات ہے کیونکہ بچے کا جسم بیلیروبن کو پاخانے کے راستے خارج کر رہا ہوتا ہے۔جیسے ہی علاج ختم ہوتا ہے یہ ذیلی اثرات بھی غائب ہوجاتے ہیں۔

فوٹو تھراپی سے علاج والے بچوں کو مشاہدے میں رکھا جاتا ہے تاکہ اُنکے جسم میں پانی کی کمی نہ ہوجائے۔کچھ بچوں کو انٹراوینس لائن ( آئی وی) یعنی رگوں کے راستے مائعات فراہم کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

یرقان سے بچاؤ

پیدائش کے بعد پہلے گھنٹوں اور ابتدائی ایام میں بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد دودھ پلانا، خصوصاً ماں کا دودھ پلانا، سنجیدہ نوعیت کے یرقان کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ دودھ پینے کے بعد آپ کا بچہ زیادہ پاخانہ کرے گا، اور یہ دودھ بچے کے جگر کو اتنی توانائی دے گا کہ جس کی بیلیروبن کے عمل کو دفع کرنے میں مدد ملتی ھے۔

طبی معاونت کی ضرورت کب پڑتی ہے

اپنے بچے کے فیملی ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں اگر :

  • آپ کے بچہ یرقان زدہ(زرد) ہو رہا ہے
  • آپ کا بچہ بہت زیادہ سُست یا ڈھیلا نظر آ رہا ہے
  • آپ کابچہ دودھ ٹھیک طرح نہیں پی رہا یا اُس میں پانی کی کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں

اگر ضرورت ہو تو اپنے بچے کو قریبی ایمرجینسی ڈیپارٹمینٹ میں لے جائیں، یا 911 پرکال کریں اگر :

  • آپ کا بچہ بہت زیادہ سُست یا ڈھیلا نظر آ رہا ہے
  • آپ کا بچہ قے کر رہا ہے (جتنا دودھ پیتا ہے نکال دیتا ہے)
  • آپکے بچے کو بخار ہے
  • آپکو پریشانی ہو رہی ہے کہ یرقان بگڑ رہا ہے اور بچے کا ڈاکٹر دستیاب نہیں

اہم نقاط

  • طبی امداد اُسی دن حاصل کریں اگر آپ کے بچے میں یرقان زیادہ محسوس ہو رہا ہے
  • اپنے بچے کو ماں کا دودھ پلائیں
  • اگر آپ کا بچہ دودھ ٹھیک طرح نہیں پی رہا، تو اُسی دن طبی معاونت حاصل کریں۔
  • اگر آپ کو یہ کہا جاتا ہے کہ ڈسچارج ہونے کے بعد دوبارہ ہسپتال آئیں تاکہ بچے کے بیلیروبن یا یرقان کا لیول دوبارہ چیک کیا جا سکے، تو بے حد احتیاط سے ہدایات پر عمل کریں ۔

Carole P. O'Beirne, MSc, MD, FRCPC

Janine A. Flanagan, HBArtsSc, MD, FRCPC

Bruce G. Minnes, MD, FRCPC, ABPEM

 

3/5/2010




Notes: